کبھی دل پرانے گلے بھی بھلا لے
کبھی دل کسی کو گلے سے لگا لے
کبھی تم ذرا سا تبسم دکھا دو
کہ دل بھی نئی اک کہانی بنا لے
کبھی تم خفا ہو کے نظریں چرا لو
تو دل مسکرا کر تمہیں پھر منا لے
تمہارے بنا بھی گزر تو رہی ہے
مگر کون دل سے تمہیں اب نکالے
محبت میں بدلے کئی طور اپنے
مگر دل کے کچھ رنگ ہم نے سنبھالے
بڑھاپا بھی شاہدؔ محبت کا موسم
اگر ساتھ چلنے کو کوئی بلا لے

0
1