شہر کی گلیاں اب اتنی سنسان ہیں کیوں
لوگ یہاں کے زیادہ تر بے جان ہیں کیوں
ٹوٹے پھوٹے گھر ہیں مفلس لوگوں کے
شہر کے حاکموں کے پھر گھر دیوان ہیں کیوں
جیبیں بھری ہیں خاص قسم کے لوگوں کی
عام عوام کے ہی پھوٹے ارمان ہیں کیوں
دیس کی مٹی سونا اگلنے والی تھی
کھیت یہاں پر سب ایسے ویران ہیں کیوں
منتیں کر کے ووٹ کی بھیک یہ مانگتے ہیں
جیت کے لیکن بن جاتے شیطان ہیں کیوں
خود ہی ووٹ دیا تھا ایسے لوگوں کو
چن کے عوام بھی جانے اب حیران ہیں کیوں
ایک ہوئے نہ حرم کی پہرہ داری کو
آپس میں لڑ کر مسلم ہلکان ہیں کیوں
جو بویا ہے اس کو ہی تو کاٹنا ہے
پھر اپنے انجام سے ہم انجان ہیں کیوں

0
2