| جب سے گئے ہو تب سے حال یہ میرا ہے |
| آنکھوں کی سرحد پر غم کا ڈیرہ ہے |
| سوچ رہا ہوں بات کہاں سے بِگڑی تھی |
| سوچ کے گرد تری یادوں کا گھیرا ہے |
| کہنے کو میں سورج جیسا روشن ہوں |
| لیکن میرے اندر کافی اندھیرا ہے |
| اور نہیں کچھ تیری میری یادیں ہیں |
| دل جاگیر پہ جن کا آج بسیرا ہے |
| جس کی خاطر دنیا سے منہ موڑا تھا |
| آج اسی نے مجھ سے کیوں منہ پھیرا ہے |
| آدمی اپنا درد بھی ہے اور دارو بھی |
| خود ہی سانپ ہے اور یہ خود ہی سپیرا ہے |
| کب تک راج کرے گی ظلم کی تاریکی |
| یاد رکھو ہر رات کے بعد سویرا ہے |
معلومات