مولوی ہے وطن کے پاؤں کا چھالا
مولوی ہے وطن کی آنکھ کا جالا
بیچ کر دین یہ زر کا ہے رکھوالا
نام حق کا لیا پیٹ اپنا ہی پالا
لب پہ تقویٰ پہ دل کوزہ ہوس کا ہے
واعظِ شہر کا ہے اب یہی حوالہ
درس دیتا ہے دنیا سے یہ دوری کا
خود مگر اپنے گھر بھرے خزانہ
قوم کو فرقوں میں بانٹے ہے یہ ملا
نفرتوں سے یہ کرتا ہے دوستانہ
دکاں کو کر دیا ہے منبر و محراب
اس نے ایمان کا بھی رنگ کیا کالا
اس کے ہاں کچھ نہیں سوائے فتووں کے
ہر سوالی پہ فتویٰ اس نے اُچھالا
حق کی آواز آئے تو بھڑکتا ہے
زور والے کے آگے یہ بنے لالہ
قوم جاگے تو فکر آزاد ہووے گی
ٹوٹ جائے گا پھر مکڑی کا یہ جالا
دوڑے گا یہ وطن جب چھالا پھوٹے گا
دیکھے گا چشم سے نکلے گا جب جالا

0
2