| کس کس نے اپنی ذات سے اپنا پتہ لیا |
| کیوں دوسروں کی آگ میں خود کو جلا لیا |
| اپنی حماقتیں تھیں سبھی دوش خود کا تھا |
| تقدیر کہہ کے ہم نے جہاں منہ چھپا لیا |
| جو شخص اپنے آپ سے لڑتا رہا سدا |
| آخر اسی نے اپنے مقدّر کو پا لیا |
| دولت کے پیچھے بھاگتے لوگوں نے کیا کِیا |
| رشتوں سے ربطِ وقت کا ناطہ گنوا لیا |
| ہم نے چراغِ دل کو بچایا تو کس لیے |
| جب روشنی ملی تو اسے پھر بجھا لیا |
| اک عمر دوسروں کی خطائیں گِنا کئے |
| اپنی کتابِ دل کا ورق ہی بھُلا لیا |
| دنیا سے جیتنے کا ہنر آ گیا مگر |
| خود سے جو ہار بیٹھے تو سب کچھ ہرا لیا |
| جو شخص زخم کھا کے بھی ہنستا ہے دوستو |
| اس نے غموں سے خود کو توانا بنا لیا |
| آئینہ سامنے تھا مگر ہم نے کیا کیا |
| تہمت سے وقت کی کوئی چہرہ سجا لیا |
| نفرت کے ایک لفظ نے برسوں کے پیار کے |
| رشتوں کو ایک لمحے میں دشمن بنا لیا |
| وہ جس نے قاتلوں کو بھی تھا کر دیا معاف |
| اس نے دلوں میں اپنا ہی رتبہ بڑھا لیا |
| منزل تو سامنے تھی مگر پیچھے رہ گئے |
| جب بھی سفر میں خود کو نظر سے گرا لیا |
| طارق یہ زندگی بھی عجب امتحان تھی |
| دل جیت کر کسی نے ہے اپنا بنا لیا |
معلومات