جو ہر بات پہ امن کا بھاشن دیتے ہیں
پوچھ انھی سے پھول یہاں کیوں مرتے ہیں
جو لوگوں سے نفرت کا ہی سکھاتے ہیں
مذہب کو بدنام وہی تو کرتے ہیں
سوئے ہوئے ہیں دیس کے حاکم دیکھو تو
جال عدو سازش کا کھل کر بُنتے ہیں
باغ کے مالی گر سستی دکھلائیں تو
خود رو پودے خوب چمن میں پھلتے ہیں
غم ہے مجھ کو ایسے اجلے پھولوں کا
جن کو ان کے محافظ آپ مسلتے ہیں

0
3