ہر گماں میں بھی بدگمانی ہے
سب مکمل ہی رائیگانی ہے
ریت کے گھر میں کیسے بیٹھے ہو
کیا بھروسہ یہ زندگانی ہے
گر جو سمجھو تو چشمِ نم میں بھی
ایک دریا کی سی روانی ہے
​ حالِ دل ہم اگر جو سمجھے ہیں
سب یہاں ایک ہی کہانی ہے
عقل حیراں ہے کُل تماشے پر
سب ہی فانی ہے سب ہی فانی ہے؟

0
5