| تیری صورت دیکھ کر ہر عکسِ جاں لرزے گا اب |
| آئینہ خود کو سنبھالے، وہ یہاں لرزے گا اب |
| گر چُھپا لے رخ تو ہوگا ماہِ نو پیوندِ خاک |
| کھول دے گیسو تو سارا گلستاں لرزے گا اب |
| یہ چمکتی بجلیاں تیری جبیں کے سامنے؟ |
| گر اڑی زلفِ سیہ، سارا سماں لرزے گا اب |
| تیری پلکوں کے اشارے کر رہے ہیں قتلِ عام |
| تیر ایسا ہے کہ جس سے نیم جاں لرزے گا اب |
| چشمِ مستِ ناز نے چھیڑی ہے ایسی داستاں |
| ہوش والے بہکیں گے اور نکتہ داں لرزے گا اب |
| جب بنے گا تُو سراپا، حرفِ مدحت کی قسم |
| دیکھنا اس حسن پر خود نکتہ داں لرزے گا اب |
| لفظ میں کیسے سموؤں ترے پیکر کا نکھار |
| شعر لکھتے وقت میرا یہ بیاں لرزے گا اب |
| حسن کی اس کائناتِ بے کراں میں اے صنم! |
| تیرے آگے ہم تو کیا، سارا جہاں لرزے گا اب |
| عشق کی منزل میں لازم ہے تری گردِ قدم |
| تیری آہٹ پر ہی خالدؔ کا مکاں لرزے گا اب |
معلومات