| ہم کو ہم سے ذرا بچائے کون |
| اپنا چہرہ ہمیں دکھائے کون |
| ایک دیوار درمیان تو ہے |
| اینٹ پہلی مگر ہٹائے کون |
| ہم نے خود ہی چراغ پھونک دیا |
| اب اندھیرے سے گھر بچائے کون |
| میز پر ایک کپ ابھی تک ہے |
| چائے کو گرم کر کے لائے کون |
| اپنی ضد میں اسے گنوا بیٹھے |
| اب اسے لوٹ کر منائے کون |
| ہم ہی خاموش ہو گئے پہلے |
| اب یہ خاموشی توڑ پائے کون |
| رات بھر دستکیں ہوئیں در پر |
| ہم نہ جاگے، ہمیں جگائے کون |
| ہم نے رستے بدل لیے لیکن |
| دل کی عادت مگر مٹائے کون |
| آئنے سے نظر چرا لی ہے |
| اپنا چہرہ ہمیں دکھائے کون |
| بات اتنی سی تھی کہ ہم چپ تھے |
| اب یہ مطلب اسے بتائے کون |
معلومات