یاد کے پردے سے صورت نہیں ہلتی جس کی
وہی ظالم ہے کہ ہم سے نہیں نبھتی جس کی
اب وہ ہر صورتِ خوش رنگ میں آتا ہے نظر
گو کسی اور سے صورت نہیں ملتی جس کی
قیمتِ درد ہمہ وقت بڑھے جاتی ہے
یہی دولت ہے کہ قیمت نہیں گرتی جس کی
آو اس رستۂ دشوار پہ چل کر دیکھیں
حدِ نظارہ تلک حد نہیں دکھتی جس کی
آمدِ موسمِ گل اس کے لیے کیا معنی ؟
کلی امید کی ہرگز نہیں کھلتی جس کی

0
4