| آسماں کے ستارے سیاست نہ کر |
| خوبصورت نظارے سیاست نہ کر |
| قحط ہے اب برس بھی اے ابرِ رواں |
| وقت کے ہیں اشارے سیاست نہ کر |
| ہے بھنور میں جو ناؤ مری زیست کی |
| مجھ سے تو اے کنارے سیاست نہ کر |
| میری خوشیاں تو ماتم میں ڈھل جائیں گی |
| میرے دل کے سہارے سیاست نہ کر |
| آخری وقت ہے اس کے بیمار پر |
| کوئی اس کو پکارے، سیاست نہ کر |
معلومات