آسماں کے ستارے سیاست نہ کر
خوبصورت نظارے سیاست نہ کر
قحط ہے اب برس بھی اے ابرِ رواں
وقت کے ہیں اشارے سیاست نہ کر
ہے بھنور میں جو ناؤ مری زیست کی
مجھ سے تو اے کنارے سیاست نہ کر
میری خوشیاں تو ماتم میں ڈھل جائیں گی
میرے دل کے سہارے سیاست نہ کر
آخری وقت ہے اس کے بیمار پر
کوئی اس کو پکارے، سیاست نہ کر

0
5