آنکھوں میں نمی ہے مرے زخموں پہ نمک ہے
اک شخص کی چاہت کی یہ ادنی سی جھلک ہے
نکلے تو ہیں دھرتی سے کئی قیمتی جوہر
ہو جوہری کو قدر یہی اب بھی کسک ہے
بس جھوٹ سناتے ہیں قلم بیچ صحافی
دانش میں یہاں جعفر و صادق کی جھلک ہے
امداد پہ پلتے ہیں مرے حاکم و محکوم
لگتا ہی نہیں شرم کی کچھ ان میں رمق ہے
ہے جھوٹ زباں پر تو دماغوں میں خرابی
چہرے پہ کلنک آنکھ میں لالچ کی چمک ہے
لوگوں کو نہیں قوتِ بازو پہ بھروسہ
حاکم سے انہیں آس مگر آج تلک ہے

0
2