تم نے تو ابتدا میں ہی یار کمال کر دیا
زینہ جنون عشق کا چڑھنا محال کر دیا
۔
عمر بھر ایسا شخص پھر نکلا نہ قید و بند سے
فعلِ امیرِ شہر پر جس نے سوال کر دیا
۔
کتنا عجیب سا تھا اس کا فلسفۂ ستم گری
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
غیر کرے تو ہے حرام ، خود کو حلال کر دیا
۔
زورِ شباب مجھ میں تھا ، اونچی اڑان تھی مری
نرم کلائی والی نے مجھ کو نڈھال کر دیا
۔
پھول بدن کے پاؤں میں ہو نہ تھکن بس اس لیے
ہم نے بھی اس حسیں کو دل نعل میں ڈھال کر دیا
۔
کوچۂ یار میں ہوئے اتنا ذلیل و خوار ہم
"چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا"
۔
سایۂ پدر میں مری ٹھاٹھ الگ الگ تھی شان
جب سے چڑھا جہاں کے ہاتھ ، اس نے نڈھال کر دیا

0
13