مزدور ڈے پر ایک پرانی تحریر
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
تو سوچ پلٹ آئے وہ غربت کا زمانہ
محسوس تجھے ہو گا کوئی خوف پرانا
غربت سے کئی جا چکے ہیں موت کے منہ میں
بچے بھی بلکتے ہیں کہ ملتا نہیں دانہ
کم آمدنی سے یہاں ہر آنکھ بھی نم ہے
آسان نہیں لختِ جگر بھوکے سلانا
مزدور کا ہے عالمی دن پھر بھی ہے بھوکا
تفریح امیروں کی، ہے مزدور بہانہ
گر پیٹ کو بھرنا ہے نکل کام پہ مزدور
گر پیٹ میں روٹی نہ ہو کیا دن کا منانا

0
4