رات کے پچھلے پہر  چپ چاپ سرکتے لمحے
چاند انگڑائی لئے جانے کی رخصت چاہے
پرندے جاگے
تازہ دم روشنی  بام افق پر پھیلی
لان میں بکھری ہوئی رات کی رانی مہکی
پتیوں پہ چمکتی ہوئی شبنم دمکی
بام و در پہ سجی بیلوں کے لہکتے جھمکے
راہداری میں بچھے پتوں کا خوش رنگ جمال
روح  پہ کیف کی  رم جھم لگے  برسانے
زندگی خود پہ لگی اترانے
میں نے زینے سے اتر کر ، تیرے کمرے کی طرف
خود بخود دیکھے بنا سوچے بنا رخ موڑا
سال ہا سال کی راسخہ عادت کے سبب
تیرے پُرنور محبت سے سجے چہرے کا تصور لے کر
میں نے آداب کہا۔۔۔
دل سے اک ہوک اٹھی ،  جھٹکا لگا ، آنکھ سے آنسو چھلکے
کپکپا اٹھا درد سے یک لخت وجود
وائے حسرت ! 
"جائیت خالی بود"
(دسمبر 2025 کی ایک یاد)

0
18