رات کے پچھلے پہر چپ چاپ سرکتے لمحے
چاند انگڑائی لئے جانے کی رخصت چاہے
مرغانِ چمن جاگے
تازہ دم روشنی  مشرق میں لگی کھلنے
باغ میں پھولوں کی مہک
پتیوں پہ چمکتی ہوئی شبنم کی دمک
بام و در پہ سجی بیلوں کی لہک
راہداری میں بچھے پتوں کا خوش رنگ جمال
روح  پہ کیف کی  رم جھم لگے  برسانے
زندگی خود پہ لگی اترانے
میں نے زینے سے اتر کر
  تیرے کمرے کی طرف
خود بخود دیکھے بنا سوچے بنا رخ موڑا
سال ہا سال کی راسخہ عادت کے سبب
تیرے پُرنور محبت سے سجے
چہرے کا تصور لے کر
تجھے آداب کیا۔۔۔
دل سے اک ہوک اٹھی
ایک جھٹکا لگا
آنکھ سے آنسو چھلکے
کپکپا اٹھا درد سے یک لخت وجود
وائے حسرت !  "جائیت خالی بود"
وائے حسرت ! "جائیت خالی بود"
(دسمبر 2025 کی ایک یاد)

0
1