*طرحی غزل*
ہم حقائق سے منہ چھپانے لگے
فاختہ مر گئی گدھ آنے لگے
امن کی بات صرف ہم نے کی
باقی سب جنگ کو بڑھانے لگے
سچ کا حلیہ بگاڑ کر سرِشام
جھوٹ کے ہونٹ مسکرانے لگے
تیری راتوں کی نیند اڑ جائے
"ہم اگر درد دل سنانے لگے"
ظلم کے شہر میں اجالے کہاں
لوگ سارے دیے بجھانے لگے
محمد اویس قرنی

0
2