آتا ہے اسے خوب ہنسانے کا سلیقہ
روٹھے ہوؤں کو پاس بلانے کا سلیقہ
کیوں نیند میں بھی خواب اسی کے مجھے آئیں
ہے خواب میں بھی اس کو لبھانے کا سلیقہ
اے حسن مجسم مجھے مرغوب ہوا ہے
آنکھوں سے ترا جام پلانے کا سلیقہ
معصوم ادا تم نے یہ سیکھا ہے کہاں سے
اس ناز سے عاشق کو ستانے کا سلیقہ
ان کانپتے ہونٹوں پہ ہے انکار مسلسل
دھڑکن کے لرزنے کو چھپانے کا سلیقہ
گھر میں ہو مگن اور بلاؤں اسے چھت پر
آتا ہے اسے جان چھڑانے کا سلیقہ
کس شان سے وہ زلف جھٹک کر کہے "سوری"
روٹھوں میں تو اس کو ہے منانے کا سلیقہ

0
1