| رات کے تاریک سائے پھیلتے ہیں چار سُو |
| خامشی کے زہر سے اب بجھ رہی ہے آرزو |
| وقت کی دیوار پر ٹھہری ہوئی ہے اِک تھکن |
| جیسے صدیوں سے اکیلا جاگتا ہو میرا تن |
| میز پر رکھی ہوئی ہے چائے کی پیالی اداس |
| پی رہا ہوں رات کے اس زہر کو میں بے حواس |
| ایک سگریٹ انگلیوں کے درمیاں جلتا ہوا |
| میرے اندر بے بسی کا اِک دھواں چلتا ہوا |
| اڑ رہے ہیں زرد ہونٹوں سے دھوئیں کے سلسلے |
| کٹ گئے ہیں زندگی سے آج سارے فاصلے |
| راکھ دانِ وقت میں گرتی ہوئی چنگاریاں |
| یاد کی دہلیز پر سسکیں مری ناداریاں |
| بند کھڑکی سے الجھتی ہے خفا سی اِک ہوا |
| مجھ سے کہتی ہے کہ اب تو موت ہی ہے اِک دوا |
| طاق پر رکھی کتابیں گرد میں لپٹی ہوئیں |
| روشنی کی حسرتیں تاریکیوں میں کھو گئیں |
| میز پر بکھرے پڑے ہیں کچھ پرانے حاشیے |
| کھل گئے ہیں آج میری زندگی کے زاویے |
| ہر گزرتے پل کی ٹک ٹک روح پر طاری ہے آج |
| اک عجب سی بے بسی کی رات یہ بھاری ہے آج |
| زندگی کی آخری ڈوری سرکنے لگ گئی |
| سانس کی الجھی ہوئی مالا بھٹکنے لگ گئی |
| ہو چکا انجام طے اب میری اس تقدیر کا |
| کٹ گیا ہے آخری ٹکڑا مری زنجیر کا |
| آخری کش زندگی کے کرب کا حاصل ہوا |
| میرے اندر موت کا اب قافلہ نازل ہوا |
| راکھ کی ڈھیری میں گم ہے آخری حصہ مرا |
| ختم ہونے کو ہے اب یہ رات کا قصہ مرا |
| صبح کا سورج یہاں اب آئے گا میرے بغیر |
| گیت یہ سارا جہاں اب گائے گا میرے بغیر |
معلومات