ستم کو ہی وہ جو وفا مانتے ہیں
وہ شاید کہ خود کو خدا مانتے ہیں
جو پوچھا کبھی ہم نے ہنس کر وہ بولے
محبت کو بھی ہم سزا مانتے ہیں
جنھیں تیرے کوچے سے نسبت رہی ہے
وہی خاکِ پا کو شفا مانتے ہیں
نبھایا محبت میں ہر عہد ہم نے
مگر لوگ اس کو خطا مانتے ہیں
حقیقت سے ہیں جو گریزاں ابھی تک
بتوں کو ہی اپنا خدا مانتے ہیں
عجب اہلِ دنیا کی عادت ہوئی ہے
فقط جھوٹ میں ہی بقا مانتے ہیں
مرے حال پر وہ بھی ہنستے رہے جو
قیامت کو روزِ جزا مانتے ہیں
انھیں آئینہ بھی دکھانا تھا لیکن
وہ ہیں طبعِ نازک ، برا مانتے ہیں
ہے ظلمت سے تعمیر کردار جنکا
وہ خود کو ہی نورِ ھدیٰ مانتے ہیں
مری نیکیوں کو خطا کہنے والے
وہ لغزش کو اپنی ادا مانتے ہیں
وفا کے قرینوں سے نا آ شنا بھی
فقط خود کو اہلِ وفا مانتے ہیں
کبھی وقت پردہ اٹھا دے اگر تو
مقدر کا ہی سب لکھا مانتے ہیں
حسَن کیسے دانا ہیں اِس دور کے جو
فقط بات اپنی بجا مانتے ہیں

0
2