تیرا فراق مجھ کو کوئی حادثہ نہیں
اب قربتوں سے تیری کوئی واسطہ نہیں
ہم نے مٹا دیئے ہیں سبھی شوق کے خیال
اپنے نگر کو چھوڑا کوئی راستہ نہیں
وہ وقت اور تھا تری قربت عزیز تھی
اب تجھ سے رابطوں کا کوئی سلسلہ نہیں
کیا وقت تھا کہ فاصلے بھی فاصلے نہ تھے
ہے فاصلہ بہت جو کوئی فاصلہ نہیں
وہ وقت اور تھا کہ گلہ تھا جناب سے
اب انکے اس سلوک کا کوئی گلہ نہیں
میں نے تو وار دی ہے وفاؤں پہ زندگی
جو مجھ کو دے رہا ہے تُو کوئی صلہ نہیں
میں اس کے حال کی کوئی رکھتا نہیں خبر
اب اُس سے رہ گیا جو کوئی رابطہ نہیں
مفقود رہگزر ہیں سبھی اس کے دیس کی
اب اُس نگر کو جائے کوئی قافلہ نہیں
جب چھوڑ آیا یاد کی جلتی زمیں تری
اب میرے پاؤں پر بھی کوئی آبلہ نہیں
لے اب سنبھال تُو بھی جو یہ واقعہ ہوا
ترکِ تعلقات کوئی واہمہ نہیں
اب کے تو مان لے کہ ہمایوں یہ زندگی
اس شخص کے بنا بھی کوئی سانحہ نہیں
ہمایوں

0
10