گھٹن کے دور میں تازہ سحر لایا
خبر میرے لیے جب خوش خبر لایا
بہت مدت کے بعد اک خوبصورت شخص
دلِ ویران میں زیر و زبر لایا
خزاں رت میں بھی اپنے لمس کے صدقے
وہ شاخِ آرزو پر پھر ثمر لایا
لبوں پر چپ کے پہرے جم گئے تھے جب
میں لفظوں سے محبت کا ہنر لایا
بجھا بیٹھا تھا میں دیپک سبھی قرنی
تو وہ اس یاس میں تازہ شرر لایا
محمد اویس قرنی

0