وہی خوشی ہے جو سب کے لبوں پہ آ جائے
وہی سخن ہے جو خاموشیوں کو بھا جائے
کسی کے درد کو اپنا سمجھ کے دیکھ ذرا
اس ایک لمحے کی لے کر کہاں وفا جائے
چراغ بن کے اندھیروں سے لڑنے والو سنو
تمہاری خاک پہ کوئی دیا جلا جائے
کبھی تو دل کی عدالت میں خود بھی آ بیٹھو
ہر اک گواہ تمہارے خلاف کیا جائے
نہ اپنے نام کی خواہش نہ تخت کی حسرت
بس ایک کام ہو انسان مسکرا جائے
ہمیں غرورِ سفر نے کہیں کا کب رکھّا
یہ جھک کے چلنا ہی شاید سفر نبھا جائے
ہوا کے دوش پہ لکھّی دعائیں سچ نکلیں
جو ایک اشک کسی بے نوا کے کام آئے
اس ایک بات کو سینے میں عمر بھر رکھنا
حسین کون ہے طارِق یہ دل بتا جائے

0
5