میرا تو بانکپن ہے نظر کی خوشی ہے تو
دل کا سکون روح کی تابندگی ہے تو
اور تو ہے، جیسے لعلِ بدخشاں کا رنگ روپ
اور تو ہی جیسے باغ میں جاڑے کی سرد دھوپ
اور تو ہے، گورے ہاتھ پہ اترا حنا کا رنگ
اور تو ہی اک عروس پہ چھایا حیا کا رنگ
اور تو ہے، دستِ شوق کی مانوس جستجو
اور تو ہی میری روح کی معصوم آرزو
اور تو ہے، جیسے قوسِ قزح کا ظہور ہے
اور توُ ہی تو کلیم کے جلووں کا طور ہے

0
36