ہجر ایسے منائے ہیں ہم نے
دیپ سو سو جلائے ہیں ہم نے
بند آنکھوں کے پار خوشبو ہے
گئے موسم بلائے ہیں ہم نے
​تیرے ماتھے پہ چاند ٹانکا ہے
اور ستارے سجائے ہیں ہم نے
​دھوپ اپنے ہی سر پہ لے لی ہے
سائے ہر سو بچھائے ہیں ہم نے
زخمی پوروں سے ہم نے چن چن کر
اجڑے لمحے گنوائے ہیں ہم نے
یہ جو ساون سے آنکھ بھر لی ہے
کتنے آنسو بچائے ہیں ہم نے
اپنے ہاتھوں میں کپکپاہٹ ہے
شعر زندہ اٹھائے ہیں ہم نے

0
2