خون کو ارزاں کرتے ہو
باغ بیاباں کرتے ہو
دہشت سے بمباری سے
شہر کو ویراں کرتے ہو
آگ لگا کر بستی کو
تم تو چراغاں کرتے ہیں
زخم نمک سے بھر کر تم
درد کا درماں کرتے ہو
چھینا جھپٹی غارت سے
لوگ ہراساں کرتے ہو
ظلم کرا کر لوگوں پر
قہر کا ساماں کرتے ہو
وقت ہے توبہ کر لو، گر
فکرِ ایماں کرتے ہو

0
1