یَا مُحَمَّدَ مُصْطَفٰی تیرا دیوانہ بے نَوا
مانگتا ہے عشق تجھ سے، کر رہا ہے التجا
دل گناہوں سے ہے بوجھل، روح پیاسی ہے مری
آلؓ کا صدقہ عطا کر دیجیے اپنا لقا
تیرے در کی خاک مل جائے تو قسمت ہو بھلی
میری آنکھوں میں رہے در پاک کی خاکِ شفا
حشر میں جب ہو پریشاں حال تیرا امتی
دور کر دینا نگاہِ کرم سے رنج و بلا
دل کے ویرانے میں چمکے روشنی کا وہ دیا
نور سے بھر دے جو دل کو، ہے یہ میری التجا
نعت پڑھتا ہی رہوں میں دم نکلنے تک حضور
ذکر تیرا ہی رہے لب پر مرے یا مصطفیٰ
آرزو عتیقؔ بسمل کی ہے آئے موت یوں
آخری سانسوں میں ہو ذکرِ نبی کا سلسلہ

0
4