| جس شانِ لطافت کا یہ داریں پہ سایہ ہے |
| یہ اُن کی عطا نے ہی کونین سجایا ہے |
| یہ پہلے سجی ہستی احسان سے سرور کے |
| اس دہر میں پھر رب نے دلدار بلایا ہے |
| سب چاند حسیں تارے سرکار کی سنتے ہیں |
| یہ فیضِ نبی ہے جو اجرام کو آیا ہے |
| بھرتے ہیں سدا جھولی فیاض نبی سرور |
| آیا ہے سوالی جو سلطان بنایا ہے |
| تسکینِ دروں یارو ملتا ہے درودوں سے |
| اس جاں کو سکوں ہمدم دلدار سے آیا ہے |
| کرتے ہیں شکر مولا مختار کی امت ہیں |
| اور عشقِ نبی سرور کونین کی مایہ ہے |
| ہیں خُلقِ عظیم آقا یہ ایک حقیقت ہے |
| محمود یہ قرآں نے دنیا کو بتایا ہے |
معلومات