جس شانِ لطافت کا یہ داریں پہ سایہ ہے
یہ اُن کی عطا نے ہی کونین سجایا ہے
یہ پہلے سجی ہستی احسان سے سرور کے
اس دہر میں پھر رب نے دلدار بلایا ہے
سب چاند حسیں تارے سرکار کی سنتے ہیں
یہ فیضِ نبی ہے جو اجرام کو آیا ہے
بھرتے ہیں سدا جھولی فیاض نبی سرور
آیا ہے سوالی جو سلطان بنایا ہے
تسکینِ دروں یارو ملتا ہے درودوں سے
اس جاں کو سکوں ہمدم دلدار سے آیا ہے
کرتے ہیں شکر مولا مختار کی امت ہیں
اور عشقِ نبی سرور کونین کی مایہ ہے
ہیں خُلقِ عظیم آقا یہ ایک حقیقت ہے
محمود یہ قرآں نے دنیا کو بتایا ہے

1
2
جامع خلاصہ
یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ حضورِ نبیِ کریم ﷺ کی شانِ رحمت، لطافت، کرم اور فیضِ عام کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔ شاعر کے نزدیک کائنات کی رونق اور حسن حضور ﷺ کے احسان و عطا سے وابستہ ہیں، اور آپ ﷺ کی تشریف آوری نے دنیا کو رحمت، محبت اور نور سے منور فرمایا۔ چاند، تارے اور اجرامِ فلکی بھی آپ ﷺ کے فیض اور سنت کی عظمت کے گواہ دکھائی دیتے ہیں۔

نعت میں آپ ﷺ کو فیاض، سخی اور حاجت مندوں کی جھولیاں بھرنے والا قرار دیتے ہوئے محبتِ رسول ﷺ اور درود و سلام کو دل و جان کے لیے سکون اور تسکین کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ شاعر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اسے حضور ﷺ کی امت میں شامل فرمایا گیا، اور عشقِ رسول ﷺ کو زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیتا ہے۔

اختتام پر خُلقِ عظیم کو حضور ﷺ کی نمایاں صفت قرار دے کر قرآنِ کریم کی اس گواہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ بلند ترین اخلاق کے مالک ہیں۔ یوں یہ نعت عظمتِ مصطفیٰ ﷺ، فیضِ نبوی، درود و محبتِ رسول ﷺ، شکرِ الٰہی اور حسنِ اخلاق کے جامع جذبات کو نہایت عقیدت سے پیش کرتی ہے۔

0