ہم نے چاہا اسے ہم بھی چاہے گئے
دل یہ پھر کیوں ہمارے دکھائے گئے
جان بے تاب تھی، دل بھی بے چین تھا
اس قدر عشق میں ہم ستائے گئے
آسمانوں پہ تھے ہم محبت میں کل
خاک پر آج کیسے گرائے گئے
درد دل کا کسی کو بتایا نہیں
اشک آنکھوں میں کتنے چھپائے گئے
بن کے ہمدرد جس نے تسلی تو دی
وقت پر ہم اُسی سے رلائے گئے
ایک جوڑے نے سازش رچائی یونہی
عشق کے آشیانے جلائے گئے
جس کا رشتہ بہت ہی قریبی رہا
کھیل چھپ کر اسی کے چلائے گئے
بات سچی کسی کو بتائی نہیں
جھوٹے قصے سبھی کو سنائے گئے
حال پر اب ہمارے ہنسا ہی کیے
شہر بھر میں تماشا بنائے گئے
روشنی زندگی کی چھنی اس طرح
آرزوؤں کے دیپک بجھائے گئے
ظلم ایسا ہوا عشق کی راہ میں
نقش ہستی کے سارے مٹائے گئے
جھوٹے ہمدرد بخشے نہ جائیں کبھی
حشر میں روبرو جب بلائے گئے
جرم کوئی نہیں تھا ہمارا مگر
بے سبب شادؔ ہم آزمائے گئے

0
4