| دل میں جب اُترا تِرا ذکرِ بقا، عشق ہوا |
| میرا ہو جیسے وہ بس ایک خدا، عشق ہوا |
| عقل ٹھہری رہی دربارِ سبب میں خاموش |
| دل نے کیا سجدہ بلا چون و چرا، عشق ہوا |
| طور پر نور نے جب چاک کیے پردۂ شب |
| موسوی حرف میں چھپتا ہوا کیا، عشق ہوا |
| نوح کے صبر میں، یوسف کے تبسّم میں کہیں |
| درد جب صبر سے مل بیٹھا ذرا، عشق ہوا |
| ہجر کی رات میں مریم کی دعا کی صورت |
| روح پر اُترا جو اک نورِ وفا، عشق ہوا |
| کربلا دشت نہ تھا، راضی بہ مولا تھا وہ |
| سر کٹا کر بھی جسے خوف نہ تھا، عشق ہوا |
| بدر کے جان نثاروں میں جو اُتری تکبیر |
| تین سو تیرہ نے لکھ دی جو بقا، عشق ہوا |
| عشق وہ جس میں انا خاک ہوئی لمحوں میں |
| اور بندہ بھی رہا، بندہ خدا، عشق ہوا |
| عشق خوشبو ہے محمد کے تبسّم کی عطا |
| جس نے سینوں کو کیا آئینہ سا، عشق ہوا |
معلومات