| ان کے نام |
| جو رات کی آخری بس میں |
| کھڑکی کے شیشے پر |
| اپنا تھکا ہوا شہر دیکھتے ہیں |
| ان کے نام |
| جن کی جیب میں تنخواہ سے پہلے |
| خرچوں کی پرچیاں آ جاتی ہیں |
| جو دکان بند کر کے |
| بچوں کے لیے مٹھائی خریدنے سے پہلے |
| سکّے دوبارہ گنتے ہیں |
| ان کے نام |
| جو کرائے کے کمروں میں |
| اپنے کمروں سے بڑے خواب رکھتے ہیں |
| دیوار پر گھر کی ایک تصویر |
| میز پر اگلے مہینے کا حساب |
| اور دونوں کے بیچ |
| ایک پوری عمر |
| ان کے نام |
| جو ہسپتال کی راہداری میں |
| رات بھر جاگتے ہیں |
| اور صبح |
| مریض کے سامنے مسکرا کر کہتے ہیں |
| سب ٹھیک ہے |
| ان کے نام |
| جن کے فون میں |
| سینکڑوں نام ہیں |
| مگر آدھی رات |
| کوئی ایک آواز نہیں |
| ان کے نام |
| جو دفتر میں |
| ہر جملے سے پہلے |
| اپنی نوکری یاد کرتے ہیں |
| اور لفظ نگلتے نگلتے |
| ایک دن |
| اپنا لہجہ بھول جاتے ہیں |
| ان کے نام |
| جو شہر بدل لیتے ہیں |
| زبان بچا لیتے ہیں |
| مگر اپنے تلفظ میں |
| گھر کی تھوڑی سی مٹی |
| آہستہ آہستہ کھو دیتے ہیں |
| ان کے نام |
| جو کتاب اٹھا کر |
| پہلے قیمت دیکھتے ہیں |
| جو دوا کا نسخہ |
| جیب میں تہہ کر لیتے ہیں |
| اور بیماری کو |
| ایک دو دن اور سمجھاتے ہیں |
| ان ماؤں کے نام |
| جو سب کے سو جانے کے بعد |
| گھر میں بچی ہوئی خاموشی |
| اپنے حصے میں رکھ لیتی ہیں |
| ان باپوں کے نام |
| جو دروازہ کھولنے سے پہلے |
| تھکن کو چہرے کے پیچھے |
| چھپا لیتے ہیں |
| ان بچوں کے نام |
| جو سوال پوچھنے کی عمر میں |
| جواب سمجھنے لگتے ہیں |
| اور ان استادوں کے نام |
| جو شکستہ تختۂ سیاہ پر |
| ہر صبح |
| ایک نئی دنیا بناتے ہیں |
| ان ہاتھوں کے نام |
| جن کے ناخنوں میں |
| شہر کی گرد رہتی ہے |
| اور انہی ہاتھوں کے سہارے |
| شہر کی روشن عمارتیں |
| آسمان سے بات کرتی ہیں |
| ان خاموش لوگوں کے نام |
| جو کوئی بڑا اعلان نہیں کرتے |
| بس |
| کسی ڈرتے ہوئے شخص کے پاس |
| کچھ دیر بیٹھ جاتے ہیں |
| کسی بچے کی فیس |
| چپکے سے بھر دیتے ہیں |
| کسی بوڑھے کا ہاتھ |
| سڑک کے پار تک تھام لیتے ہیں |
| کسی اجنبی کی پوری بات |
| بغیر اپنی کہانی سنائے |
| سن لیتے ہیں |
| ان کے نام |
| جو دنیا نہیں بدلتے شاید |
| مگر کسی ایک دن کو |
| کسی ایک شخص کے لیے |
| تھوڑا کم دشوار کر دیتے ہیں |
| ان کے نام |
| جو ابھی مکمل نہیں ٹوٹے |
| جو اندھیرے کو |
| روشنی کہنے سے انکار کرتے ہیں |
| اور روشنی نہ بھی ہو |
| تو اندھیرے میں |
| ایک دوسرے کے ہاتھ |
| پہچان لیتے ہیں |
معلومات