| ہم نے کتنے جھوٹ پالے خوش گمانی کے لیے |
| کتنے سچ دل میں دبائے زندگانی کے لیے |
| عمر بھر خود کو بدلتے ہی رہے دنیا کے ساتھ |
| ہم ترستے رہ گئے اپنی نشانی کے لیے |
| ہم نے اپنے زخم جن لوگوں سے پوشیدہ رکھے |
| وہ بہت بے تاب تھے بس اک کہانی کے لیے |
| جن کی خاطر عمر بھر خود کو بھلاتے ہی رہے |
| لفظ اک بھی وہ نہ بولے قدر دانی کے لیے |
| جو نہ کہہ پائے زباں سے، آنکھ نے سب کہہ دیا |
| لفظ آخر کب ضروری تھے معانی کے لیے |
| اپنے حصے کی خوشی بھی بانٹ دی ہم نے مگر |
| خود ترستے رہ گئے اک مہربانی کے لیے |
| شاہدؔ اپنے آپ سے ملنے کی فرصت ہی نہ تھی |
| عمر گزری دوسروں کی ترجمانی کے لیے |
معلومات