| سکون مل نہ سکا خود نما سے لڑتے ہوئے |
| تھکن سے چور ہیں اپنی انا سے لڑتے ہوئے |
| ہمیں تو خاک میں ملنا ہی ہے کسی اک دن |
| بدل گئے ہیں مگر خاکِ پا سے لڑتے ہوئے |
| چراغِ مصلحتِ وقت بجھ گیا آخر |
| ہمارے عزم کی سرکش ہوا سے لڑتے ہوئے |
| بکھر گئے ہیں سرِ رہ گزر کئی سپنے |
| سفر کی کالی و بری فضا سے لڑتے ہوئے |
| بتا رہی ہے یہ چہرے کی زردیِ وحشت |
| کہ ہم جئے ہیں کسی کی جفا سے لڑتے ہوئے |
| بچا سکا نہ کوئی بھی سفینۂ ہستی |
| اجل کے سامنے موجِ بلا سے لڑتے ہوئے |
| وہ جن کے ہاتھ میں اب فتح کا علم بھی ہے |
| وہ تھک چکے ہیں بہت ناخدا سے لڑتے ہوئے |
| ہمیں بھی اذنِ تکلم ملا ہے مقتل میں |
| سکوتِ شہر کی گونگی صدا سے لڑتے ہوئے |
| یہ کس مقام پہ لائی ہے زندگی عادل |
| دعا کی اوٹ میں اہلِ ریا سے لڑتے ہوئے |
معلومات