وہ جو پکنک پہ کڑاہی تھی اڑائی ہم نے
ساتھ یاروں کے وہ مل کر تھی بنائی ہم نے
نہ نمک مرچ، نہ تھا ذائقہ اس میں کوئی
پھر بھی رغبت سے مگر بیٹھ کے کھائی ہم نے
گوشت کچا تھا مگر دوست بڑے پکے تھے
آگ یاروں کی رفاقت سے جلائی ہم نے
کوئی پکنک پہ نہیں ایسی کڑاہی کھاتا
پیٹ بھوکا تھا سنی اس کی دہائی ہم نے
یاد آتے ہیں وہ لمحے تو تڑپ اٹھتے ہیں
زندگی وہ تھی، جو یاروں سے نبھائی ہم نے

0
2