عدل ہو مفقود دنیا میں سکوں رہتا نہیں
ظلم کی یلغار سے گوشہ کوئی بچتا نہیں
دیکھنا اہلِ ہوس جب بھی کبھی حق دب گیا
پھر جہاں کو آشتی و امن راس آتا نہیں
عدل کی بنیاد پر قائم ہے دنیا کا نظام
ورنہ طاقت کا تلاطم کوئی حد رکھتا نہیں
پار ہو جائے نا تیرِ ظلم قلبِ عدل کے
زخم یہ تقدیر بن جائے تو پھر بھرتا نہیں
گر مقدم عدل ہو تو ہے جہاں جنّت نظیر
ورنہ زورِ بازو سے باغِ جناں ملتا نہیں
عدل کی دولت میسر ہو جسے بھی اے حَسَن
وہ کبھی ظلم و ستم کے سامنے جھکتا نہیں
رانا حسن

0
3