اگر میرے یہ لفظ
تمہارے کمرے کی دیوار سے
ایک سایہ بھی کم کر سکتے
اگر میرے ہاتھ کی حرارت
تمہاری رات سے
ایک ساعت کی سردی چرا سکتی
اگر میں تمہیں
وہ پرانی گلی لوٹا سکتا
جہاں تم بے سبب ہنستے تھے
اور دروازے
خوف سے پہلے کھلتے تھے
تو میں رات بھر
تمہارے پاس بیٹھا رہتا
بارش کی پہلی بو
بچپن کی بھولی آوازیں
درختوں کے نیچے سوئی دوپہریں
اور ان راستوں کی بات کرتا
جو کہیں پہنچانے سے پہلے
آدمی کو بدل دیتے ہیں
تمہارے ہر سوال کے پاس
کوئی نرم سا لفظ رکھ دیتا
ہر خاموشی کے کنارے
تھوڑی سی روشنی
مگر لفظ
ساتھ تو چلتے ہیں
راستہ نہیں چلتے
وہ زنجیر کی سردی جانتے ہیں
گرہ نہیں کھولتے
تمہارے زخم پر
اپنی ہتھیلی رکھ سکتا ہوں
درد اپنے حصے میں نہیں لے سکتا
تمہاری رات میں
چراغ رکھ سکتا ہوں
صبح نہیں
اور وہ دروازہ
جس کے اُس پار
تمہاری اپنی زندگی ہے
وہاں تک
تمہارے ساتھ آ سکتا ہوں
اس کے بعد شاید
کسی لفظ کی ضرورت نہ رہے
تمہارا ہاتھ
کنڈی کو چھوئے
اور دوسری طرف
بہت دیر سے رکی ہوئی ہوا
آہستہ سے چلنے لگے

0
4