دل کے سودے میں خسارہ بھی تو ہو سکتا ہے
کوئی ناداں کو سہارا بھی تو ہو سکتا ہے
ہر مسافر پہ بھروسہ نہ کرو منزل تک
راہزن رہبرِ پیارا بھی تو ہو سکتا ہے
ڈوبنے والے کو گرداب سے ڈر ہے کیسا
ڈوب جانا ہی کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے
جس نے نظریں بھی چُرا لیں ترے غم کو سن کر
وہ کبھی جان سے پیارا بھی تو ہو سکتا ہے
اپنی آنکھوں کے چراغوں کو بجھانا مت تم
تیرگی میں کوئی تارا بھی تو ہو سکتا ہے
روٹھ جانے پہ اُسے چھوڑ نہ دینا عادل
یہ تری زیست کا دھارا بھی تو ہو سکتا ہے

0
2