| خیالِ یار کو تصویرِ جاں بنانے لگے |
| ہم اپنے لفظ سے اک دنیا اب سجانے لگے |
| میں "وصل" لکھوں تو وہ بے قرار ہو جائے |
| میں "قرب" لکھوں تو وہ قریب آنے لگے |
| وہ میرے سامنے بیٹھا رہے تصور میں |
| میں "دیکھنا" لکھوں، وہ نظریں تک ملانے لگے |
| میں اس کے ہاتھ پہ اپنی "لکیر" لکھ دوں تو |
| وہ میرے نام کو قسمت کا سچ بتانے لگے |
| میں اس کے سائے میں چھاؤں سا سکوں پاؤں |
| وہ میرے کمرے میں خوشبو سی بن کے آنے لگے |
| میں "ہجر" لکھوں تو اس کی آنکھ بھر آئے |
| تو وہ بھی "عشق" کی لذت کو آزمانے لگے |
معلومات