جاری رہے زبان پہ نغمہ درود کا
جنت میں لے کے جائے گا تحفہ درود کا
رحمت برس رہی ہے مرے جسم و جان پر
لب پر سجا ہے جب سے وظیفہ درود کا
ہوتی ہے بارگاہ میں منظور ہر دعا
بھیجے دعا کے ساتھ جو ہدیہ درود کا
محشر کی سختیوں سے وہ محفوظ ہو گیا
جاری ہے جس کے دل میں یہ چشمہ درود کا
ہوگی خدا کے فضل سے پر نور قبر بھی
کام آۓ گا لحد میں وسیلہ درود کا
ہر دم عتیقؔ ہو ترے لب پر درود ہی
تجھ پر رہے گا حشر میں سایہ درود کا

0
6