پتھر
خواب جیسا حسین منظر ہے
بند کمرہ ہے، ساتھ دلبر ہے
تیز برسات، سخت جاڑا ہے
اور آغوش میں ستمگر ہے
مست آنکھوں سے مے چھلکتی ہے
نرم و نازک نفیس پیکر ہے
سرخ رخسار کی حرارت سے
راحتِ جسم و جاں میسر ہے
پر گھٹن تھی فضا شبستاں کی
مشکِ گیسو سے اب معطر ہے
ناز سے جو گلو پہ لرزاں ہے
شبنمی ہونٹ یا گُلِ تر ہے
جوش سے مشتعل ہے آتش داں
اک کشادہ نفیس بستر ہے
لطف سے آج گر نہیں پگھلے
دل تمھارا شہاب پتھر ہے
شہاب احمد
۱۸ جولائی ۲۰۲۶
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن

0
56