| کر کے اقرار جیسے بدل سے گئے |
| میرے سرکار جیسے بدل سے گئے |
| ان کی آغوش سے ہے لحد کا سفر |
| ہو کے بیمار جیسے بدل سے گئے |
| دل پہ تنہائیوں کا اثر یہ ہوا |
| دل کے اطوار جیسے بدل سے گئے |
| تذکرہ جب وفا کا چھڑا ایک دم |
| اپنی گفتار جیسے بدل سے گئے |
| میں نے سمجھا کہ یہ لوگ اپنے ہیں پر |
| وہ تو اغیار جیسے بدل سے گئے |
| مدتوں بعد ان سے ہوا سامنا |
| یوں لگا یار جیسے بدل سے گئے |
| کچھ فضاؤں میں ایسی چلی ہے ہوا |
| گھر کے دیوار جیسے بدل سے گئے |
| وہ جو رہتے تھے ہر پل مرے ساتھ ہی |
| اب کے اتوار جیسے بدل سے گئے |
| ساری دنیا ہی بدلی ہوئی سی لگی |
| موسمِ خار جیسے بدل سے گئے |
| آئی عادلؔ جب ان کی تغافل کی یاد |
| زیست کے سار جیسے بدل سے گئے |
معلومات