طرز عالم بڑا نرالا ہے
راست بازی سے شکوہ نالہ ہے
چھوٹ جائے نہ صبر کا دامن
"اس نے پتھر جو پھر اچھالا ہے"
تیرگی کاوشوں سے مٹتی گئی
شش جہت علم کا اجالا ہے
چاند تاروں پہ اس کی ہو منزل
خواب سینے میں جس نے پالا ہے
درد سے حوصلہ ملا ناصؔر
غم شکستہ یہ دل سنبھالا ہے

0
15