کہاں وہ اپنا لہجہ بدلتا ہے
زمانے کا تقاضا بدلتا ہے
وہ کیوں اب ہم سے آنکھیں ملاتا ہے
جو پل پل اپنا چہرہ بدلتا ہے
کبھی وہ خواب تھا آنکھوں کی زینت
مگر اب وہ تماشا بدلتا ہے
نہیں بدلا ہے شوقِ سفر میرا
سفر کا بس ارادہ بدلتا ہے
تھکن پیروں کی بڑھتی ہی جاتی ہے
مگر کب یہ پیادہ بدلتا ہے
ترا لہجہ بتاتا ہے یہ ہم کو
کہ تیرا اب ارادہ بدلتا ہے

0
4