| جھوٹ کا اس دور میں چرچا بہت ہی عام ہے |
| سچ مگر سولی چڑھا، کتنا برا انجام ہے |
| بے گناہوں کے لیے تو، طوقِ زنداں ہے یہاں |
| قاتلوں کو مل رہا اب، شہر میں انعام ہے |
| دولتوں کی دوڑ میں اندھا ہوا ہے ہر بشر |
| دعویِٰ تہذیب تو ہے، پر طبیعت خام ہے |
| عیب اپنے تو کسی کو، سوجھتے ہرگز نہیں |
| دوسروں پر رکھ دیا بس، ہر نیا الزام ہے |
| بے حسی کی دھند میں لپٹا ہوا ہر شہر ہے |
| آدمی بکنے لگا اب، کوڑیوں کے دام ہے |
| آدمی کی قدر اب باقی نہیں ہے شہر میں |
| یہ شرافت آج کل بس، گالیوں کا نام ہے |
| رہ گئی باقی نہ دل میں، اب کسی کے بھی وفا |
| نفرتوں کا زہر پینا، ہر کسی کا کام ہے |
| مفلسی نے چھین لی ہے، مسکراہٹ ہونٹ سے |
| ہر طرف چھائی ہوئی اک، غم کی کالی شام ہے |
| کب تلک تو دیکھ کر روتا رہے گا شہر کو |
| خونِ دل سے بھر گیا اب، شادؔ تیرا جام ہے |
معلومات