حُبّ گلشن جو غیرت جگاتی نہیں
جان جوکھم وطن کا اٹھاتی نہیں
گر نہ آئی چمن سے خبر خیر کی
دل ہے غمگیں، نظر مسکراتی نہیں
سرحدوں پر کھڑے ہوں جواں دیس کے
پھر وطن پر کوئی آنچ آتی نہیں
وہ جوانی وہ طاقت ہے کس کام کی
گھر کا چولہا تلک جو جلاتی نہیں
داغ لے کر غلامی کا کیوں ہم جئیں
سوچ کر رات بھر نیند آتی نہیں
چھوڑ کر ان کو آگے نکل جاتی ہے
دنیا سوئے ہوؤں کو جگاتی نہیں
گھر امیروں کے وافر ہے دولت مگر
گھر بھی مزدور کا یہ چلاتی نہیں

0
3