ادب کی لو جلائے رکھنا، گھبرانا نہیں اچھا
مقامِ بندگی میں ہاتھ پھیلانا نہیں اچھا
اگرچہ تلخ ہے سچ، پھر بھی اس کو پی ہی لیتے ہیں
محبت کے قرینوں میں تو کترانا نہیں اچھا
ترا اپنا ہی عکسِ خود سری ہے سامنے تیرے
بغیر آئینہ دیکھے، ہی تو اترانا نہیں اچھا
وہ نکتہ چیں نہیں، وہ تو مری اصلاح کرتے ہیں
نفس کے بھیڑیوں کو خود پہ اکسانا نہیں اچھا
وفا کی بزم میں بیٹھے ہو، یہ بھی یاد رکھ لینا
کسی کی لغزشوں کا ذکر دہرانا نہیں اچھا
ہم اپنے عیب گنتے ہیں تو فرصت ہی نہیں ملتی
کسی کے نقشِ پا پر آنکھیں مٹکانا نہیں اچھا
خموشی ہی میں پوشیدہ ہے رتبہ سرفرازی کا
بھری محفل میں اپنا ظرف دکھلانا نہیں اچھا

0
4