| آدمی جس زمیں پہ رہتا ہے |
| اس کو اپنی زمیں سمجھتا ہے |
| اور مٹی یہ سوچتی ہوگی |
| کتنے آئے تھے، کتنے گزرے ہیں |
| کتنے لوگوں نے عمر بھر اس پر |
| اپنے ہونے کے نام لکھے تھے |
| کتنے ہاتھوں نے حد بنائی تھی |
| کتنی نسلوں نے اس کو اپنا کہا |
| مٹی چپ چاپ سب سمیٹ گئی |
| نہ کسی نام سے اسے رغبت |
| نہ کسی نقش سے اسے نفرت |
| ایک دن وہ بھی خاک ہو جائے |
| جس کو اپنی زمیں پہ ناز رہا |
| پھر کسی روز ایک بچہ کہیں |
| گیلی مٹی سے گھر بناتا ہے |
| اپنی انگلی سے کھینچتا ہے لکیر |
| مسکراتا ہے اور کہتا ہے |
| دیکھو، یہ گھر بھی میرا اپنا ہے! |
| مٹی خاموش ہی تو رہتی ہے |
| اس نے پہلے بھی یہ سنا ہوا ہے۔ |
معلومات