سَر پہ رکھا تھا جو اِک ہاتھ دُعا بن کے رہا
ماں کا ہر لفظ مِرے دِل میں ضیا بن کے رہا
جب بھی مایوس ہوا ٹوٹ کے بِکھرا مَیں کبھی
ذکرِ مادر مِرے سینے کی شفا بن کے رہا
آج بھی جب کبھی ماتھے پہ ہوا چھُو جائے
یوں لگے ہاتھ مری ماں کا دُعا بن کے رہا
عمر بھر دُھوپ نے چاہا مرا سایہ چھینے
ماں کی شفقت کا ہر اِک لمس رِدا بن کے رہا
ہر خوشی، ہر کسی اعزاز کے روشن لمحے
دِل میں اِک نام مگر دَرد بھرا بن کے رہا
سَر جھُکایا تو کئی چہرے نظر سے گزرے
ماں کا چہرہ مِرے سجدوں کی حیا بن کے رہا
لوگو! ماں تو گئی،پر دِل سے کہاں جائے گی
اُس کا ہر لفظ مِرے حق میں دُعا بن کے رہا
ماں کی یادوں کو کبھی دِل سے بھلایا نہ گیا
اُس کا ہر لمس مِرے ساتھ وفا بن کے رہا
ماں کی جاویدؔ ! دُعاؤں کا عجب فیض رہا
ہر بِکھرنے کا عمل خود ہی بقا بن کے رہا

0
2