دکھائی دینے لگا ہے غبار لوگوں میں
بچھڑ گیا ہے کوئی اپنا یار لوگوں میں
بچا نہیں ہے ابِ اعتبار لوگوں میں
بدل گئے ہیں سبھی وضع دار لوگوں میں
کسی کے لمس کی خوشبو اڑا کے لائی ہے
بدل گیا ہوا کا رخ عیار لوگوں میں
میں اپنے کرب کی شدت چھپاؤں گا کب تک
ہوا ہے چہرہ مرا اشتہار لوگوں میں
عجیب بھیڑ ہے، تنہائیاں پکارتی ہیں
ملا نہ کوئی بھی سچا پیار لوگوں میں
سخن کی لاج محبت کے دم سے قائم ہے
یہی تو ایک بچا افتخار لوگوں میں
دلِ تباہ کی حالت کوئی تو پہچانے
کھڑا ہوں بن کے میں اک یادگار لوگوں میں
وہ بات بات پہ لہجے کے رنگ سے کہنا
وہی تھا ہجر کا لیکن شکار لوگوں میں
ہمیں تو راس نہ آئی یہ مصلحت کی روش
ہمیں ملا نہ کوئی راز دار لوگوں میں
خموش رہ کے بھی سب داستان کہہ ڈالی
مرا سکوت ہی تھا جاندار لوگوں میں
وہ ایک شخص جو محفل کی جان لگتا تھا
وہی تھا سب سے زیادہ بے کار لوگوں میں

0
19