غزل
گدگدی دل میں مرے ہونے لگی
شوخ تکیے سے لپٹ سونے لگی
وَقتِ رُخصت جوش سے بَوسے لئے
پھر رَگڑ کر سب نشاں دَھونے لگی
حُسن سے پہلو تہی ممکن نہیں
اِک حَسیں تصویر ہر کونے لگی
اَشک زخموں پر نمک پاشی کریں
سو ستم ڈھا کر، ستم رونے لگی
حُسن کی دل داریوں کا فیض ہے
رَوز اِک تازہ غزل ہونے لگی
خوب رنگیں ہے خزاں کی شام پر
وَسوسے دل میں عجب بَونے لگی
شاعری رُومان پَرور کم شہاب
اَب تَریسٹھ کی عمر ہونے لگی
شہاب احمد
۱۸ اکتوبر ۲۰۲۶
رمل مسدس محذوف
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن

0
19