| یہ درندے ہیں ہوس کے، ہیں شیاطیں کی سپاہ |
| ہر طرف کرتے پھریں جو، بے گناہوں کو تباہ |
| آبگینوں کو یہ توڑیں، توڑ ڈالیں پتیاں |
| خوف سے ویران کر دیں، شہر کی سب بستیاں |
| کر رہے ہیں یہ تقدس والے رشتوں کو ہلاک |
| ان کی فطرت میں رذالت، ان کے چہرے شرمناک |
| کیا انہیں اشرف کہا تھا، ذاتِ باری نے کبھی؟ |
| ان کی حرکت دیکھ کر تو، کانپتی ہے روح بھی |
| روزِ محشر ان درندوں کی تو منزل ہے سقر |
| آگ دوزخ کی بنے گی، ان کا انجامِ سفر |
| موت کی مانگیں دعائیں، یہ تڑپ کر بارہا |
| ان میں لڑنے کی عذابوں سے نہ ہو طاقت ذرا |
| یا الٰہی ہر کلی کو، تو امانِ جان دے |
| ان درندوں سے بچا کر، اک نئی پہچان دے |
| پاک کر دے اس زمیں کو، ہر بری تدبیر سے |
| ہر بشر محفوظ ہو اب، وحشت و تعزیر سے |
| اس زمیں سے ظلم سارا، اب ہمیشہ ختم ہو |
| شادؔ کی ہے التجا یہ، سب پہ تیرا رحم ہو |
معلومات